بارہ شاگِرد:
بارہ شاگِرد:
متّیاہ (دوسرا حِصّہ):
اعمال 10ب 39آ سے لکھا ہے پطرس نے کہا "اور ہم اُن سب کاموں کے گواہ ہیں جو اُس نے یہُودِیوں کے مُلک اور یروشلِیم میں کِئے اور اُنہوں نے اُس کو صلِیب پر لٹکا کر مار ڈالا. اُس کو خُدا نے تِیسرے دِن جِلایا اور ظاہِر بھی کر دِیا۔ نہ کہ ساری اُمّت پر بلکہ اُن گواہوں پر جو آگے سے خُدا کے چُنے ہُوئے تھے یعنی ہم پر جِنہوں نے اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد اُس کے ساتھ کھایا پِیا. اور اُس نے ہمیں حُکم دِیا کہ اُمّت میں مُنادی کرو اور گواہی دو کہ یہ وُہی ہے جو خُدا کی طرف سے زِندوں اور مُردوں کا مُنصِف مُقرّر کِیا گیا." اور اِسی طرح پطرس کہتا ہے کہ اُس نے ہمیں رسول اور مناد ہونے کے لئے چُنا ہے.
یسوع نے پہلے بارہ کو چُنا اور بعد میں ستّر کو مقرر کیا، جیسا کہ آپ کو یاد ہے اور پھر جب مستقبل میں کام کرنے والوں کو مقرر کرنے سے مُتعلِق بات ہوئی تو بائبل بیان کرتی ہے یسوع نے کہا کہ "پس فصل کے مالِک کی مِنّت کرو کہ وہ اپنی فصل کاٹنے کے لِئے مزدُور بھیج دے۔" آپ نے دیکھا کہ مسیحی خدمت دراصل نوکری پر بھرتی کرنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ اِلہٰی تقرری کا معاملہ ہے. پولُس کی خدمت کے دوران بھی ہم پڑھتے ہیں، لکھا ہے "اور جب تک وہ بھیجے نہ جائیں مُنادی کیوں کر کریں؟" اور بھیجنے والا کون ہے؟ خُدا.
آج کل یہ عجیب بات دیکھنے کو مِلتی ہے کہ بہت سے لوگ بِلا وجہ بھاگ دوڑ کرتے پھِر رہے ہیں جبکہ خُدا نے اُنہیں بھیجا ہی نہیں، اور وہ خُود کو خُدا کا خادِم کہلواتے ہیں جبکہ خُدا نے اُنہیں خادِم مُقرر نہیں کِیا. وہ خوُد ہی سے خِدمت کا کام شروع کر لیتے ہیں جبکہ اُنکی زِندگیوں میں خُدا کی خدمت کا بُلاوا نہیں ہوتا. جب تک کہ خُدا آپکےدِل میں اِس بات کو نہ ڈالے، آپکو تیار کرنے کے وسیلے سے، آپکی تربیت کرنے کے وسیلے سے، اور روح القدس کی آواز کو سُننے کے لئے حساسیت پیدا نہ کر دے، قطعاً خِدمت کا کام شُروع نہ کریں. یعقُوب نے کہا "پس ہر آدمی سُننے میں تیز اور بولنے میں دِھیرا اور قہر میں دِھیما ہو۔" اور مزید کہا "اَے میرے بھائِیو! تُم میں سے بُہت سے اُستاد نہ بنیں کیونکہ جانتے ہو کہ ہم جو اُستاد ہیں زِیادہ سزا پائیں گے۔" اگر خُدا آپکو خِدمت کا بُلاوا دیتا ہے تو اپنے آپکو اِس بُلاوے کے لئے مُہیا کریں اور اُس بُلاوے کے تابع رہیں. لیکن جِس کام کے لئے خُدا نے آپکو نہیں بُلایا وہ کام ہرگِز نہ کریں. خُدا، یسوع مسیح کے وسیلے سے اپنوں کو مُقرر کرتا ہے.
اور اِس بات کا واضح اِشارہ ہمیں نئے عہد نامہ میں مِلتا ہے. اِفِسِیوں 4ب 11آ مِیں کلیسیاء کے آغاز کے تعلق سے لکھا ہے "اور اُسی نے، یعنی مسیح نے خُود، بعض کو رسُول اور بعض کو نبی اور بعض کو مُبشِّر اور بعض کو چرواہا اور اُستاد بنا کر دے دِیا۔" انکا تقرر مسیح کی طرف سے ہوا. پھر 1-کُرِنتھیوں 12ب 28آ کے پہلے حِِصے میں مُقرر کے لئے جو یونانی لفظ اِستعمال ہوا ہے. اِسکا مطلب یہ ہے کہ خُدا نے اُنہیں ایک ترتیب کے تحت تعلیِم دینے والے پاسبان، مُبشر اور اُستاد مُقرر کِیا ہے. سو خُدا خُود اُن لوگوں کو چُنتا ہے جو اُسکی خاطِر لوگوں کی راہنمائی کر سکیں.
اب اِس متن میں بھی ہمیں مِن و عن یہی دیکھنے کو مِلتا ہے، ایک مرتبہ پھِر خُداوند چُناو کر رہا ہے. کُچھ لوگ شاید ہمیں اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور کریں کہ پطرس یہ اِنتخاب اپنے تئیں کر رہا ہے جو کلیسیاء کو غلطی کی طرف لے جا رہا ہے. میں ایک لمحہ کے لئے بھی یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ خُداوند اپنی کلیسیاء کی بُنیاد کسی غلط اِنتخاب پر قائم کرے اور اُس سے مُتعلِق کُچھ بھی نہ کہے. میں تو اِس بات کا تصوُر بھی نہیں کر سکتا کہ جب خُداوند نے 11آ تک اُنکو واضح ہِدایات دے رکھی تھیں، تو وہ اسکے باوجود ایک غلط شخص کا اِنتخاب کر کے سب کُچھ مٹی میں ملا دیتے. مُجھے تو ایسا کُچھ بھی نظر نہیں آتا.
مزید براں، اگر یہ سچ ہے کہ یہوُداہ کی جگہ کسی اور کے لے لینے کے حوالے سے، پُرانے عہد نامہ میں پیشینگوئی موجود ہے تو پھِر یہ اقدام جائز ہے. ہمارا ایمان ہے کہ یہاں پر جو کُچھ بھی ہو رہا ہے وہ خُدا کی مرضی سے ہو رہا ہے اور ہم اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ پطرس نے روح القدس کی راہنمائی اور تحریک سے باتیں کیں جب اس نے یہوُداہ اِسکریوتی کی جگہ لینے والے سے مُتعلِق اِنتخاب کے لئے لوگوں کی اُس چھوٹی سی جماعت کی راہنمائی کی. سو یہ معاملہ دراصل خُدا کا اپنے خادِم کے اِنتخاب کرنے کا ہے. سو ہم اِس بات کا اِطلاق یوں کر سکتے اور یہ کہہ سکتے ہیں کہ خُدا جِسکو چاہے اپنی مرضی پوری کرنے کے لئے چُن سکتا ہے. یہاں پر میں یہ بات کہتا چلوں کے یہ شریعت کا حتمی عمل تھا، اب شریعت کا دور ختم ہونے کو تھا. یہ آخری عمل تھا، 2ب میں، روح القدس کےنزول سے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے!
متّیاہ پر یہ پیغام ابھی جاری ہے...
-
Elders trembled at the coming of Samuel. (1Sm 16:4) And Samuel did that which the LORD spoke, and came to Bethleh...
-
Matthew 5:6, Blessed are they which do hunger and thirst after righteousness : for they shall be filled. The craving of bodily hunger ha...
-
THE SERMON ON THE MOUNT In the sermon on the Mount (Mt. 5---7),Jesus introduces the kind of life those who seek the Kin...
