دعا میں رکاوٹیں
نمبر 3 دعا میں رکاوٹیں ۔...نمبر1 بے عتقادی ۔ یعقوب کا عام خط ایک باب آیت ۔7.6 مگر اِیمان سے مانگے اور کُچھ شک نہ کرے کِیُونکہ شک کرنے والا سَمَندَر کی لہر کی مانِند ہوتا ہے جو ہوا سے بہُتی اور اُچھلتی ہے۔۔ خدا کا کلام مقدس ہمیں یہ بیان کرتا ہے کہ ہم جو بھی مانگتے ہیں خدا سے ایمان سے مانگے اور شک نہ کریں اگر ہم شک کرتے ہیں تو ہمارا ایمان پختہ نہیں ہے اس لئے جو شک کرتا ہے اسے ملتا نہیں ہے ۔ ملتا اسے اس لیے نہیں ہیں کیونکہ وہ شک کرتا ہے اور شک کرنے والا انسان کبھی ایماندار نہیں ہو سکتا شک اس کے درمیان اور خدا کے درمیان رکاوٹ بنا ہوا ہے اسے شک کی دیوار کو گرائیں ایمان کو مضبوط کریں تاکہ آپ کا اور خدا کا رابطہ آپس میں ہو سکے ۔ خداوند یسوع مسیح فرماتے ہیں ایمان سے مانگو تو تم کو دیا جائے گا اور جب تم خدا سے مانگتے ہو تو شک نہ کرو ۔ شک کرنے والا شخص سمندر کی لہروں کی مانند ہے ۔ جو گہرے سمندر سے باہر تو آتی ہے مگر پھر واپس چلی جاتی ہیں ہمارا ایمان پختہ ہونا چاہئے مضبوط چٹان کی طرح ۔ نہ کہ دنیا داری کی ان ہواؤں میں اچھلتے رہے دنیا داری ہمیں چاروں طرف سے کھینچتی ہے اور دنیا داری میں بہت سارے خدا بھی ہیں اور خداوند بھی ہیں مگر ہمارا خدا ایک ہے یعنی خدا باپ ۔ اور ہمارا ایک ہی خداوند ہے یعنی خدا وند یسوع مسیح ۔ تو ہم صرف اپنے خداوند یسوع مسیح پر ایمان رکھیں نہ کہ کسی اور چیز پر اور اس میں کبھی شک نہ کریں کیونکہ ہمارا خدا ہمارے مانگنے سے پیشتر ہی جانتا ہے کہ ہمیں کن چیزوں کی ضرورت ہے پختہ ایمان ۔ آپ کو شفا دے گا آپ کی تمام ضروریات پوری کرے یقینا ایسا کرے گا ۔
7 اَیسا آدمِی یہ نہ سَمَجھے کہ مُجھے خُداوند سے کُچھ مِلے گا۔ مگر شک کرنے والا انسان یہ نا سمجھیں کہ خدا کی طرف سے اسے کچھ ملے گا اسے کچھ بھی نہیں ملے گا اس نے خدا کی ذات پر شک کیا ہے ۔ اسے نہ ملنے کی وجہ کیا ہے وجہ یہ ہے کہ وہ خدا کے اکلوتے بیٹے یسوع مسیح پر ایمان نہیں لایا ۔ اس لیے اسے ملتا بھی نہیں ۔ . . نمبر دو نام معاف کرنے والی روح ۔( مر قس . 11 باب آیت نمبر 25 )اور جب کبھی تُم کھڑے ہُوئے دُعا کرتے ہو اگر تمُہیں کِسی سے کُچھ شِکایت ہوتو اُسے مُعاف کرو تاکہ تُمہارا باپ بھی جو آسمان پر ہے تُمہارے گُناہ مُعاف کرے۔۔ اکثر دعاؤں کے درمیان ہماری سخت دلی رکاوٹ بن جاتی ہے کہ ہم دوسروں کو معاف نہیں کرتے ۔ مگر یہ ضروری ہے کہ جب بھی ہم دعا کرتے ہیں تو ہم سب کو معاف کرے جس طرح ہمارے باپ نے ہمیں معاف کیا اور اپنے اکلوتے بیٹے کے خون کے کفارے کے وسیلہ سے ہم سب کے گناہ دھو ڈالے ۔ اسی لئے ہم پر بھی فرض ہے کہ ہم دوسروں کو معاف کرے ۔ ہم دوسروں کو معاف کریں گے تو خدا ہمیں بھی معاف کرے گا مگر جب ہم دوسروں کو معاف نہیں کرتے تو خدا ہمیں معاف نہیں کرتا ۔ یہی ہماری دعا کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے ہمیں ایسی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے اور اپنے دشمنوں کو معاف کریں اور سب سے پیار کریں جس طرح خداوند یسوع مسیح نے ہم سے کیا اپنے آپ کو موت کے حوالہ کردیا تاکہ ہم اس کے کفارے کے وسیلہ سے ابدی نجات پائیں ہم پر بھی فرض ہے کہ ہم دوسروں سے محبت کریں اور سب کو معاف کریں نہ معاف کرنے والی روح کو اپنی زندگی سے دور کریں اور خدا کے پاک روح کو اپنی زندگی میں جگہ دے کیونکہ ہم سب خدا کے پاک روح کا مقدس ہیں ۔ . . . (نمبر 3 ۔ بدی یا گناہ ۔ زبور کی کتاب 6 باب آیت 8) اے سب بدکردارو! میرے پاس سے دُور ہو کیونکہ خُداوند نے میرے رونے کی آواز سُن لی ہے۔
9 خُداوند نے میری مِنت سُن لی۔ خُداوند میری دُعا قبول کریگا۔۔ ۔ نمبر تین بدکرداری ہمارے لئے ہماری دعا میں رکاوٹ بن جاتی ہے ۔ بدکردار دوست ہماری دعا میں رکاوٹ ہوتے ہیں یا پھر ہمارا خود بدکردار ہو جانا ہمارے درمیان اور خدا کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے ۔بدکرداری میں ہم ہر روز گناہ کرتے ہیں اور ہم یہ جانتے ہیں کہ گناہ کی مزدوری موت ہے ۔ مگر شیطان یہ چاہتا ہے کہ ہم مر جائیں اسی لیے وہ زیادہ سے زیادہ یہ چاہتا ہے کہ ہم گناہ کریں تاکہ خدا سے دور رہیں اور گناہ میں مر جائیں ۔ مگر خدا کا بیٹا یسوع مسیح چاہتا ہے کہ ہم ہمیشہ کی زندگی پائے اور کثرت سے پائی ۔۔۔۔۔ (نمبر چار بری نیت سے مانگنا یعقوب کا خط چار باب آیت 3 ) تُم مانگتے ہو اور پاتے نہِیں اِس لِئے کہ بُری نیّت سے مانگتے ہو تاکہ اپنی عَیش و عِشرت سے خرچ کرو۔
4 اَے زِنا کرنے والیو! کیا تُمہیں نہِیں معلُوم کہ دُنیا سے دوستی رکھنا خُدا سے دُشمنی کرنا ہے؟ پَس جو کوئی دُنیا کا دوست بننا چاہتا ہے وہ اپنے آپ کو خُدا کا دُشمن بناتا ہے . . ۔ زیادہ تر لوگوں کو اس لیے نہیں ملتا کیونکہ لوگ اپنی عیش و عشرت کے لئے خدا سے مانگتے ہیں ان کی خواہشات جو ہوتی ہیں وہ بہت بری ہوتی ہیں وہ نشہ بازی کے لیے ناچ رنگ کے لئے زناکاری کے لیے اور بہت سے برے کاموں کے لیے مانگتے ہیں اسی لیے خدا ان کو نہیں دیتا یا پھر وہ دوسروں کو بڑا دکھانے کے لیے مانگتے ہیں تاکہ لوگوں کے سامنے ان کی ویلیو ہو وہ لوگوں کو جلانے کے لیے مانگتے ہیں سب کچھ دکھاوا کرنے کے لیے مانگتے ہیں اور ان کے ذہن میں بہت سے خیالات ہوتے ہیں جو بہت برے ہوتے ہیں اسی لیے خدا ان کو نہیں دیتا کیونکہ ان کی نیت بری ہوتی ہے ۔ مگر خدا دل دماغ کو بہتر طور پر جانتا ہے خدا انسان کے اندر کی باتوں کو جانتا ہے اسی لئے ضروری ہے کہ ہم اچھی نیت سے مانگے تو وہ ہمیں کسی چیز کا محتاج نہیں ہونے دے گا بلکہ وہ ہماری تمام تر ضروریات کو پورا کرے گا
-
Elders trembled at the coming of Samuel. (1Sm 16:4) And Samuel did that which the LORD spoke, and came to Bethleh...
-
Matthew 5:6, Blessed are they which do hunger and thirst after righteousness : for they shall be filled. The craving of bodily hunger ha...
-
THE SERMON ON THE MOUNT In the sermon on the Mount (Mt. 5---7),Jesus introduces the kind of life those who seek the Kin...
