Showing posts with label تعارُف : ایماندار کی زِندگی کی دو اہم ترین سرگرمیاں ہیں جو اُسے بِلا ناغہ کرنا چاہیئں. Show all posts
Showing posts with label تعارُف : ایماندار کی زِندگی کی دو اہم ترین سرگرمیاں ہیں جو اُسے بِلا ناغہ کرنا چاہیئں. Show all posts

تعارُف : ایماندار کی زِندگی کی دو اہم ترین سرگرمیاں ہیں جو اُسے بِلا ناغہ کرنا چاہیئں

دُعائے ربانی:


 تعارُف :

ایماندار کی زِندگی کی دو اہم ترین سرگرمیاں ہیں جو اُسے بِلا ناغہ کرنا چاہیئں، یہ دو ایسے مضبوُط ستوُن ہیں جس پرایماندار کی روزمرہ زِندگی کا اِنحصار ہے۔ پہلے نمبر پر ہے کلامِ خُدا کو پڑھنا اور دوسرے نمبر پر ہے دُعا کرنا۔ جیسا کہ رسولوں نے اعمال کی کِتاب کے 4:6 میں یہ اِقرار بھی کیا کہ   "لیکِن ہم تو دُعا میں اور کلام کی خِدمت میں مشغول رہیں گے۔" دُعا میں ہم خُدا سے گُفتگُو کرتے ہیں۔ اور جب ہم کلام کو پڑھتے ہیں تو خُدا ہم سے ہمکلام ہوتا ہے۔  یہ دونوں عوامِل خُدا اور اِنسان کے باہمی رِشتے کامُرکب ہیں۔ اور اِسی سبب سے بائبل مُقدس ہمیں اِن دونوں سرگرمیوں میں ہمہ وقت، بِلاناغہ مشغوُل رہنے کی تلقیِن کرتی ہے۔ ہم نے روزانہ بائبل مُقدس کا مُطالعہ ایسے کرنا ہے جیسے ہم خوراک لیتے ہیں۔ ہمیں خُدا کے ساتھ روز شراکت رکھنی ہے۔

سو دُعا سے مُتعلِق پولُس رسوُل نے فرمایا کہ "بِلا ناغہ دُعا کرو۔" پولُس رسُول نے یہ کہا کہ "اور ہر وقت اور ہر طرح سے روُح میں دُعا اور مِنت کرتے رہو۔" نیا عہدنامہ ہم سے یوں ہمکلام ہوتا ہے کہ ”ہر اِک بات میں تُمہاری درخواستیں دُعا اور مِنت کے وسیلے سے شُکرگُزاری کے ساتھ خُدا کے سامنے پیش کی جائیں۔" ہمیں ہر وقت دُعا کرنا چاہیئے۔ہمیں کلام مقدس کو پڑھنا ہے، اُسے اپنے باطن میں اتارنا ہے، اپنا دھیان اُسی پر مرکوُز رکھنا ہے اور کلام کو جینا ہے۔ یہ دو باتیں پھر ایماندار کی زندگی کا اہم ترین حصہ بن جاتی ہیں۔ کلامِ مُقدس کے ذریعے خُدا کی آواز کو سُننا اور دُعا میں خُدا سے باتیں کرنا۔ دُعا ان دونوں میں سے ایماندار کی زِندگی میں مُسلسل جاری رہنے والی ایک سرگرمی ہے۔ جارج مُلر، عظیم مردِ دُعا، سے ایک بار کسی نے سوال کیا کہ  وہ کِتنا وقت دُعا میں گُزارتا تھا۔ جارج مُلر کا جواب تھا کہ ”میں دُعائیہ روح میں زِندگی بسر کرتا ہوں۔ میں چلتے ہوُئے دُعا کرتا ہوں، میں لیٹے ہوُئے بھی دُعا کرتا ہوں اور صُبح اُٹھتے ہی دُعا کرتا ہُوں۔ اور مُجھے اِن دُعاوں کا جواب مِلتا رہتا ہے۔“ دُعا کرتے رہنا جارج مُلر کا طرزِ  زِندگی تھا۔

ہمارا خُداوند یہ جانتا ہے۔ اُسے بخوُبی اِس بات کا عِلم ہے کہ دُعا کرنا ہمارا طرزِ زِندگی ہونا چاہئیے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ خُداوند اپنے پہاڑی وعظ کے درمیان میں رُک جاتا ہے۔ اِس پہاڑی وعظ میں خُداوند یسوع المسیح فریسیوں اور فِقیہوں کی جھوُٹی مذہبی اقدار اور خُدا کی سچی اقدار کا مُوازنہ پیش کرتا ہے۔ اِسی وعظ میں وہ لوگوں کو ہِدایات دیتا ہے کہ اُنہیں، جو اُسکا نام لیتے ہیں، دُعا کِس طور پر کرنا ہے۔ دُعا بہت اہمیت کی حامِل ہے۔ اگر دُعا ہمارے لئیے طرزِ زِندگی ہے تو  پھِر ہمارے لئیے یہ بے حد ضروری ہے کہ ہم دُعا کرنے کے طریقے سے بھی واقِف ہوں۔ در حقیقت دُعا کا یہی نموُنہ ہمیں لُوقا کی اِنجیل میں بھی مِلتا ہے جو کہ یسوع نے اِس سوال کے جواب میں دیا تھا کہ   "خُداوند ہمیں دُعا کرنا سِکھا۔" اگر ہمیں بِلا ناغہ دُعا کرنی ہے تو پھِر ہمیں دُعا کرنے کا درُست طریقہ بھی معلوُم ہونا چاہیئے۔ سو خُداوند ہمیں دُعا کرنا سِکھاتا ہے۔

غور کریں کہ وہ ہمیں کیا نہیں سِکھاتا۔ وہ ہمیں یہ نہیں سِکھاتا کہ دُعا کرتے ہُوئے ہماری جِسمانی وضع اور انداز کیا ہے کیونکہ دُعا تو کِسی بھی انداز میں کی جا سکتی ہے۔  بائبل مُقدس میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں نے کھڑے ہو کر دُعا کی، ہاتھ اُٹھا کر دُعا کی، بیٹھ کر، گھُٹنے ٹیک کر، آنکھیں اُٹھا کر، جھُک کر،  سر گھُٹنوں میں دیکر، چھاتی پیٹ کر، ہیکل کی طرف رُخ کر کے وغیرہ وغیرہ۔ کوئی خاص طریقہ یا انداز نہیں تھا۔


غور کریں کہ اُس نے دُعا کرنے کے لئیے کسی خاص جگہ کے بارے میں نہیں سکھِایا۔ بائبل میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں نے جنگوں میں، غاروں میں، بند کوٹھریوں میں، باغوں میں، پہاڑوں پر، دریاوں کے کنارے، سمُندروں میں، گھروں میں،ہیکل میں۔ 1 تیمتھیس میں لِکھا ہے کہ "مرد ہر جگہ دعا کیا کریں۔" بائبل میں لوگوں نے بستروں پر دُعا کی، گھروں میں، مچھلی کے پیٹ میں، گھر کی چھت پر، قیدخانہ میں، تنہائی میں، بیابان میں، صلیب پر دُعا کی ہے، اور اسی طرح اور بھی۔

وہ ہمیں دُعا کے وقت کے متعلق تعلیم نہیں دیتا. مجھے بائبل میں ایسے لوگ ملتے ہیں جو صبح سویرے دعا کرتے تھے، دن میں تین مرتبہ دعا کرتے تھے، شام میں دعا کرتے تھے، کھانے سے پہلے، کھانے کے بعد دعا کرتے تھے۔ نویں گھنٹے میں دعا کرتے تھے، سوتے وقت دعا کرتے تھے، آدھی رات کو دعا کرتے تھے، دن اور رات دعا کرتے تھے۔ بچپن میں، بڑھاپے میں، خوشی میں، مُصیبت میں، آج، کل اور ہمیشہ دعا کرتے تھے۔

یسوع نے ہمیں کسی خاص وقت، کسی خاص جگہ یا انداز کے متعلق نہیں سکھایا۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو دعا کرتے وقت دعائیہ شال اپنے اوپر لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ آجکل یہودی لوگ دعا کرنے کے لیے خاص لباس زیب تن کرتے ہیں۔ لیکن ہم بائبل مُقدس میں دیکھتے ہیں کہ لوگ ہر طرح کے لباس اور حالات میں دعا کرتے تھے. بعض اوقات لوگ ٹاٹ اوڑھ کر، راکھ میں بیٹھ کر، کبھی سر منڈوا کر، اپنی چھاتی پیٹ کر، چلا کر، اپنے سروں میں خاک ڈال کر، اپنے کپڑے پھاڑ کر، روزہ رکھ کر، آہیں بھر کے، تڑپتے ہوئے، اونچی آواز میں رو کر، پسینے کی جگہ خون بہا کر، شکستہ دِلوں کے ساتھ، شِکستہ روحوں کے ساتھ، اپنے دلوں کو اُنڈیلتے ہوئے، عہد باندھتے ہوئے، قربانیاں گُزرانتے ہوئے، پرستش کرتے ہوئے، گیت گاتے اور خُداوند کی حمد کرتے ہوئے۔

مسئلہ ان چیزوں کا نہیں ہے۔ کسی بھی انداز میں، کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ، کسی بھی حالت میں اور کسی بھی لباس میں دعا کرنا مناسب ہے کیونکہ دعا ایک طرزِ زندگی ہے۔ دعا خدا کے ساتھ ایک سرعام رفاقت ہے جو ہر وقت جاری رہتی ہے۔ بعض اوقات یہ دوسرے اوقات کی نسبت زیادہ مرتکز اور شدید ہوتی ہے، لیکن دعا طرزِ زندگی ہے۔ اور اگر یہ زندگی گزارنے کا طریقہ ہے تو پھر ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دعا کس طرح کی جائے، اور یہی وجہ ہے کہ یسوع ہمیں یہاں سکھاتا ہے۔ یہ دعا ہمیں ہماری دعاؤں کے لئے ایک خاکہ مہیا کرتی ہے۔
God bless you all