بارہ شاگِرد: متّیاؔہ (حِصہ اوّل):
بارہ شاگِرد:
متّیاؔہ (حِصہ اوّل):
اب جیسے جیسے ہم اعمال کی کتاب میں آگے بڑھتے ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ یسوع 1ب میں اپنے شاگِردوں کو اُس کام کے لئے تیار کر رہا تھا جو 2ب میں ہونے والا تھا. کیونکہ 2ب میں روح القدس کا نزول ہوتا ہے، کلیسیاء جنم لیتی ہے اور بشارت کے کام کا آغاز ہوتا ہے اور جس کام کا آغاز یسوع مسیح نے کیا تھا وہ اب اُن میں، اور اُنکے وسیلہ سے جاری رہے گا. لیکن اس سے پہلے کہ ایسا ہو کُچھ تیاریوں کا کیِا جانا ضروری تھا. 1ب میں کلیسیاء کے جنم کی تیاری کا بیان ہے. اور یسوع نے اپنے شاگِردوں کو سب کچھ جو ضروری اور مُناسِب تھا مُہیا کر دیا. یسوع نے اُنکی ضرورت کے مُطابِق اُنہیں پیغام دیا یعنی کہ جو باتیں سیِکھنا اُنکے لئے ضروری تھا، وہ تمام باتیں اُنہیں سکھائِیں. اُس نے اپنی ذات کو اُن پر بھرپُور طریقے سے ظاہر بھی کیا. اُس نے اپنے آپکو اُن پر جی اٹھنے کے بعد اپنے جلالی بدن میں آشکارا کِیا تاکہ اُنکو اس بات کا یقین ہو جائے کہ وہ واقعی مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے. پھِر اُس نے اُنہیں اُنکی ضرورت کے مُطابِق مُناسِب قوت بھی عطا کی. اُس نے اُن سے وعدہ کِیا کہ روح القدس نازل ہو کر اُنہیں قُوت عطا کریگا. اِسکے بعد اُس نے اُنہیں ایک بھید بھی عطا کِیا. اُس نے کہا " اُن وقتوں اور مِیعادوں کا جاننا جِنہیں باپ نے اپنے ہی اِختیار میں رکھّا ہے تُمہارا کام نہیں." سو اُس نے ہر شخص کو اِس روشن حقیقت میں زِندگی بسر کرنے کا کہا کہ یسوع کسی بھی وقت لوٹ کے آ سکتا ہے. اُس نے اُنکو ایک خاص مقصد سونپا اور اُن سے کہا کہ تُم دُنیا کی انتہا تک میرے گواہ ہو. پھِر اُس نے اُنہیں جینے کا منشور بھی دیا. اور وہ یہ تھا کہ وہ واپس آئیگا یہ دیکھنےکے لئے کہ وہ وفادار ہیں یا نہیں.
اب! اُس نے آنے والے کاموں کی ذِمےداری کو پورے طور پر نِبھانے کے لئے یوں اپنے شاگِردوں کو تیار کیا. لیکن شاگردوں کی گنتی ابھی پوری نہ تھی. ان تمام لوازمات کے علاوہ، یسوع اِس بات کو یقینی بنانا چاہتا تھا کہ مناسب آدمی اس کام کو سر انجام دیں. اسی سبب سےاعمال 1ب 12آ تا 26آ میں، ہم بنیادی طور پر دیکھتے ہیں کہ یسوع یہوُداہ اِسکریوتی کی جگہ پر کِسی مناسب آدمی کو مُقرر کرتا ہے.
یہ نہایت خوبصورت بات ہے کہ خدا انسانوں کے ذریعہ اپنی مرضی کو پورا کرتا ہے. خدا اپنی مرضی کو پورا کرنے کی غرض سے انسانوں سے مافوق الفطرت طور پر الگ نہیں رہتا بلکہ اُنہی کے ذریعہ اس پر عمل درآمد کرواتا ہے.
ہم یہ فرض کر رہے ہیں کہ ہر ایک رسول کا انتخاب یسوع مسیح نے خُود کیا تھا، یعنی متیاہ سمیت سب کو یسوع نے خود چنا. کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں متیاہ کے معاملے میں پطرس کی بھی غلطی تھی کیونکہ یہ اُسکا کام نہیں تھا. میں ایک لمحے کے لئے بھی اس پر یقین نہیں کرتا کیوں کہ مجھے یقین ہے کہ یسوع مسیح نے پہلے گیارہ کا انتخاب کیا تھا، اور اس نے مناسب بارہ بنانے کے لئے ایک اوَر کو منتخب کیا تاکہ کلیسیاء کا جنم ہو. پولس رسول نے جو کہ ایک مُختلِف طریق کا رسول تھا اور حقیقتاً رسول تھا، کہا کہ "میں ادھُورے دِنوں کی پَیدائش ہُوں". وہ ایک بے حد مُنفرِد رسول تھا. وہ رسول بننے کی تین شرائط میں سے دو پر پورا اُترتا تھا اور اُنہی دو خوبیوں کی بِنا پر اُسے رسول مُنتخِب کیا گیا. یا ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اُنہیں خوبیوں کی وجہ سے وہ رسول کہلایا. رسول ہونے کی تین شرائط کون سی ہیں یہ ہم بعد میں دیکھیں گے. سو ہم اس متن پر یقین کرتے ہیں کہ متّیاؔہ کو یہوُداہ اِسکریوتی کی جگہ پر مُنتخِب کیا گیا، اور ہمارا ایمان ہے کہ خُدا نے یسوع مسیح کے وسیلے سے یہ اِنتخاب کیا.
یُوحنا 15ب 16آ میں یسوع نے فرمایا "تم نے مُجھے نہیں چُنا بلکہ مَیں نے تُمہیں چُن لِیا اور تُم کو مُقرّر کِیا کہ جا کر پَھل لاؤ." دوسرے الفاظ میں یہ کہ شاگِردوں کا اِنتخاب یسوع نے خود کیا تھا. لیکن یہ پولس رسول کو کمتر نہیں بناتا ہے. اگرچہ پولس رسول کو ایک مُختلِف وقت اور مُختلِف طریقے سے چُنا گیا، لیکن اُسکا چُناو بھی یسوع نے خود کیا تھا. کیونکہ اُسے دمشق کی راہ پر روکا گیا تھا، اور یسوع نے اس سے کہا "پولس تیرے لئے میرے خلاف لڑنا مشکل ہے، کیا ایسا ہی نہیں ہے؟" اور اُسی وقت اور اُسی جگہ پر اُسکی یسوع سے مُلاقات ہو گئی، اور کُچھ دیر بعد اُسکی بینائی اُسے لوٹا دی گئی، وہ تین سال عرب میں رہا اور اسے مسیح کے ساتھ ذاتی اور روحانی ملاقات کا تجربہ ہوا اور وہ ایک حقیقی رسول بنا. لیکن وہ اُن بارہ سے مُختلِف رسول تھا. اِنتخاب یسوع کرتا ہے.
یہ پیغام جاری ہے...
-
Elders trembled at the coming of Samuel. (1Sm 16:4) And Samuel did that which the LORD spoke, and came to Bethleh...
-
Matthew 5:6, Blessed are they which do hunger and thirst after righteousness : for they shall be filled. The craving of bodily hunger ha...
-
THE SERMON ON THE MOUNT In the sermon on the Mount (Mt. 5---7),Jesus introduces the kind of life those who seek the Kin...
