مُقدس لوُقا: پہلا حِصہ:
اگر میں آپ سے لوُقا کے بارے میں پوچھُوں تو زیادہ تر لوگ شاید اُس سے مُتعلِق دومِنٹ بھی گفتگو نہ کر سکیں. اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ آپکو لوُقا سے مُتعلِق جو بھی معلُوم ہے وہ سب بتائیں تو شاید آپ اِن دو جُملوں کے علاوہ کہ "وہ ایک ڈاکٹر یا طِبیب تھا " اور کُچھ بھی نہ کہہ پائیں کیونکہ ہم عام طور پر لوقا کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے. یہ بات غور طلب اور حیران کُن ہے کہ پولُس رسوُُل کے عِلاوہ، مُقدس لوُقا، نئے عہد نامہ کو لِکھنے میں، ایک طاقتور اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیت ہے. در حقیقت لوُقا کی تحریریں دو کتابوں پر مُشتمِل ہیں. پہلی کتاب لوُقا کی معرفت لکھی گئی اِنجِیل اور دوسری کتاب ہے اعمال کی کِتاب. اور اِن دونوں کتابوں کے کُل 52 ابواب ہیں. لوُقا کی اِنجِیل لکھائی کے اعتبار سے چاروں اناجیل میں سے سب سے لمبی ہے اسی سبب سے وہ یسوع مسیح کی خِدمت کا حال مُفصِل اور مُکمل طور پر بیان کرتا ہے. اِن 52 ابواب کا مُصنِف ہونے کی وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ لوُقا نے نئے عہد نامہ کا ایک تہائی حِصہ لِکھا ہے. لوُقا کے دوست اور ساتھی پولُس نے بھی ایک تہائی حصہ لِکھا. سو اُن دونوں نے مجمُوعی طور پر نئے عہدنامہ کا دو تہائی حصہ لِکھا ہے . سو لوقا، پولس رسول کے بعد، نئے عہد نامہ میں ایک مضبوط تحریری قوت کے طور پر نظر آتا ہے لیکن پھر بھی گُمنام ہے. اُسکا تاریخی نُقطہ نظر 60 سالوں پہ مُحیِط ہے. اسکا آغاز یوُحنا بپتسمہ دینے والے کی پیدائش سے ہوتا ہے اور اعمال کی کِتاب کے آخر میں اختتام پذیر ہوتا ہے، جو کہ اُسکی تحریروں میں سے دوسری کتاب ہے. اعمال کی کِتاب کا اِختتام اس بات پر ہوتا ہے کہ روم میں اِنجِیل کی منادی کی گئی یعنی کہ اِنجِیل کا پیغام دُنیا تک پہنچ چکا تھا. کسی اور مُصنِف نے یسوع مسیِح کی تاریخ اور اُسکی شخصیت کے اثر و رسوخ سے مُتعلِق اِتنے جامع انداز میں نہیں لِکھا جِس طرح سے لوُقا نے لِکھا ہے. کسی اور مُصنِف نے یوُحنا اِصطباغی کی پیدائش سے لے کر، انجِیل کی خُوشخبری کے روم کے دارالحکومت تک پہنچنے تک اس قدر مُفصل انداز میں نہیں لِکھا. وہ نئے عہد نامہ میں نجات کی داستان کا مُکمل احوال بیان کرنے والا شخص ہے لیکن پھِر بھی ہم اُس سے واقِف نہیں ہیں. باوجود اِسکے کہ اُس نے نجات کی کہانی تحریر کرنے کی ناقابلِ فراموش عظیم سعی کی، اُس نے اپنے اِنجیلی بیان کے 24 ابواب اور اعمال کی کِتاب کے 28 ابواب میں، ایک بار بھی اپنے نام کا براہ راست تذکرہ نہیں کیا. وہ اِس بات پر راضی تھا کہ وہ حلیمی سے اپنی نہایت حیران کُن، دو کتابوں پر مُشتمِل، تحریروں کے پسِ پردہ چھپا رہے. اُس نے مسیِح کی شان و شوکت کو ہی غالِب رہنے دیا، جو دراصل اُسکی تحریروں کا محور اور مضمون ہے۔ وہ بہت ہی حلیم آدمی تھا۔ اس نہایت حلیم آدمی نے، جِس نے خود کو اپنی ہی تحریروں میں کوئی جگہ نہیں دی، ہم تک اِنجِیل کی کامِل اور مُفصِل باتیں پہنچائی ہیں. جو کُچھ اُس نے لِکھا وہ سچ ہے. جو کُچھ اُس نے لِکھا وہ لا خطا ہے. جو کُچھ اس نے لکھا وہ کافی ہے کہ ہم اس کی بات کی تفصیل جان جائیں اور جو خُدا چاہتا ہے کہ ہم مسیِح یسوع کی زِندگی اور خِدمت کے بارے میں سیکھیں اور اسکی اِنجیل کو دُنیا کی انتہا تک پہنچائیں. یہ ہے اصل تاریخ جِسے درست طور پر قلمبند کیا گیا ہے. یہ ہے عِلمِ اِلٰہیات کی وہ تعلیم جو منطقی بُنیادوں پر اُستوار ہوئی. لوُقا 1ب 4آ میں کہتا ہے کہ یہ تحریر پُختہ سچائی ہے، بالکل سچ ہے. یہ تصوارت نہیں ہیں. یہ نہ ہی اُسکے اپنے افکار ہیں. یہ اُسکی اپنی کاوِش سے بننے والی کوئی من گھڑت کہانی نہیں ہے. جو کُچھ بھی اُس نے لِکھا وہ درست تاریخ اور عِلمِ الٰہیات ہے. آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے اِنجیلی بیان کا آغاز کس طرح سے کرتا ہے. لکھا ہے "چُونکہ بُہتوں نے اِس پر کمر باندھی ہے کہ جو باتیں ہمارے درمِیان واقِع ہُوئِیں اُن کو ترتِیب وار بیان کریں۔ جَیسا کہ اُنہوں نے جو شرُوع سے خُود دیکھنے والے اور کلام کے خادِم تھے اُن کو ہم تک پُہنچایا۔ اِس لِئے اَے مُعزّز تِھیُفِلُس مَیں نے بھی مُناسِب جانا کہ سب باتوں کا سِلسِلہ شرُوع سے ٹِھیک ٹِھیک دریافت کر کے اُن کو تیرے لِئے ترتِیب سے لِکُھوں تاکہ جِن باتوں کی تُو نے تعلِیم پائی ہے اُن کی پُختگی تُجھے معلُوم ہو جائے۔" اسے ہم تعارفی تقریر یا اِبتدائی تبصرہ کہہ سکتے ہیں. اصل کہانی کا آغاز تو 5آ سے ہوتا ہے. یہ تعارفی تقریر یا اِبتدائی تبصرہ ہے۔ اور اسکا لِکھا جانا اِسلئے ضروری تھا کیونکہ یونانی دنیا میں لکھنے کا یہی طریقہ معتبر تھا. اُس دور کا کوئی بھی ماہر فلسفیات، عالمِ دین، اُستاد یا مورخ، جس کا کام اعلیٰ درجہ کا ہوتا اور وہ چاہتا کہ اُسکا کام باقی بلند پایہ فن پاروں میں شُمار ہو، وہ اپنی تحریروں کا آغاز ایسے ہی تعارفی الفاظ سے کرتے تھے. بہت سے عالموں حتیٰ کہ جوسیفس نے بھی یہی طرزِ تحریِر اپنایا. لوُقا نے بھی ایسا ہی کیا. یہ چار آیات دراصل ایک ہی لمبا جُملہ ہیں جو یوُنانی زبان کے اعلیٰ تریِن ادبی انداز میں لِکھا گیا ہے. باقی کا اِنجیلی بیان عام یونانی زبان میں لِکھا گیا ہے لیکن اُسکا ابتدائی تبصرہ نہیں. میرے خیال میں لوُقا نے اس لئے ایسا کیا تاکہ اُسکی تحریر کا مقام، کام کے اعتبار سے ممتاز رہے. یہاں یونانی کا معیار بہت اعلیٰ ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لوُقا ایک انتہائی تعلیم یافتہ شخص تھا. اگر بائبل مُقدس ہمیں یہ نہ بتاتی کہ وہ ایک طبیب تھا تو پھر ہم اُسکے ادبی طرزِ تحریر سے اندازہ لگاتے کہ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص تھا جس طرح سے اس نے قدیم یونانی کا استعمال کیا. جاری ہے