مُقدس لُوقا: حِصّہ دوئم:
مُقدس لُوقا:
حِصّہ دوئم:
لوقا کی انجیل کی اِس تعارفی تقریر میں وہ ایک اچھے مؤرخ کی طرح اپنے ذرائع سے مُتعلِق بات کرتا ہے. وہ دوسری تصانیِف سے مُتعلِق بھی بیان کرتا ہے جو مُرتب کی گئیں. وہ چشم دید گواہوں اور کلامِ اقدس کے اُن خادِموں سے مُتعلِق بھی بیان کرتا ہے جِن کی بدولت یہ باتیں اُس تک پہنچِیں. یہ اُسکی اپنی ایجاد نہیں ہے. 3آ کے مُطابِق لوُقا نے "شرُوع سے ٹِھیک ٹِھیک دریافت کر کے" اور تحقیق کر کے اِن باتوں کو لِکھا. وہ اصل تاریخ قلمبند کرنے کی طرف مائل ہے. اور 4آ کیمُطابِق وہ اِن باتوں کی سچائی اور پُختگی پر زیادہ زور دیتا ہے. اس لیے یہ تعارفی تقریر لوُقا کو ایک مُستنِد مُصنِف کے طور پر ثابِت کرنے کے لئے بڑی اہمیت کا حامِل ہے.
جب ہم تعارفی تقریر پر غور کرتے ہیں. میں دوبارہ سے آپ کو بتاتا چلوں کہ اِس اِنجیِلی بیان میں لوُقا کا کہیِں بھی ذِکر نہیں مِلتا اور نہ ہی تعارفی تقریر میں. لیکن پھر بھی ہم اُس سے مُتعلِق جو کُچھ بھی سیِکھ سکتے ہیں وہ سِیکھنے کی ضرور کوشِش کرینگے. اگر آپ یہ کہیں کہ اُسکا نام "لوُقا کی اِنجِیل" تو پہلی آیت سے پہلے ہی نظر آ جاتا ہے تو میں آپکو بتا دُوں کہ یہ اصل متن کا حِصہ نہیں تھا. یہ تو کلیسیاء کے اِتفاقِ رائے سے لِکھا گیا تھا کہ اس کا لِکھنے والا دراصل لوُقا ہی ہے. حالانکہ لوُقا طبیب نے خُود سے نہ تو اپنے اِنجِیلی بیان میں اور نہ ہی اعمال کی کِتاب میں کہیں پر اپنا نام بطور مُصنِف لِکھا ہے۔
یہ ایک دِلچَسپ بات ہے. لیکن آئیے اِسکی حیران کُن تاریخ کی چھان بیِن کرتے ہیں. اِس میں کہیِں بھی لوُقا کے نام کا تذکرہ نہیِں مِلتا لیکِن یہاں پر صاف طور پر لِکھا گیا ہے "لوُقا کی انجیِل". آخِر یہ نتیِجہ کیسے اخذ کِیا گیا؟ آئیے آغاز میں ہم لوُقا طبیِب پر غور کریں.
لُوقا کے تعلُق سے ہمیں 3آ میں صرف ایک ہی حوالہ مِلتا ہے جس میں لکھا ہے "مَیں نے بھی مُناسِب جانا". ہمارے پاس صِرف اس "میں" کے عِلاوہ کُچھ بھی نہیں ہے. اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس "میں" کے پیچھے کون سی شخصیت ہے؟ اِس سوال کا جواب دو شعبوں سے جُڑا ہے. پہلا شعبہ ہے روایت اور دوسرا شعبہ ہمیں کلامِ الٰہی کے متن میں لے جاتا ہے. اور میں اِن دونوں سے ہی آپکو اِس سوال کا جواب دینے کی کوشِش کرونگا کہ یہ "میں" کون ہے. ہمیں اُن لوگوں کا یقین ہے جِنہوں نے اِسے لوُقا کی اِنجِیل کا نام دیا. لیکن اگر ہم بذریعہ درس و تدریس، سمجھنے کے عمل سے گُزر کر اِس نتیجے پر پہنچیں کہ اُنہوں نے کیونکر ایسا کِیا تو یہ سمجھنے کے لئے زیادہ بہتر اور تعمیِری ہوگا.
ابتدائی روایت کے مطابق تیِسری اِنجِیل کو ہمیشہ ہی سے لوُقا کے ساتھ منسوب کِیا جاتا ہے، اسے ہمیشہ سے لوُقا کی اِنجِیل کہا جاتا ہے، اِسے کبھی بھی کوئی اور نام نہیں دیا گیا، اور نہ ہی کبھی یہ کہا گیا کہ اِسکا مُصنِف کوئی اور تھا. اگر کوئی بھی روایت اپنے اصل واقع کے قریب کی نہ ہو تو اُس کے کامِل طور پر درُست ہونے پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے. جب آپ لوُقا کی اِنجِیل کی بات کرتے ہیں تو پھِر آپ پہلی صدی میں پہنچ جاتے ہیں اور پھر دوسری صدی میں، جو کہ لوُقا کی اِنجِیل کے لِکھے جانے سے ایک ہی نسل بعد کا دور تھا اور اُن سب کا بھی یہی کہنا تھا کہ یہ اِنجِیل لوُقا نے لِکھی. اور وہ اِس لئے یہ کہتے تھے کیونکہ وہ وہاں پر موجود تھے. یہ کوئی نئے دور کی اِختراع نہیں ہے. اِس اِنجِیلی بیان کو شُروع ہی سے لوقا سے منسُوب کیا گیا ہے. حتٰی کہ بدعتی مارسیون نے بھی 135عیسوی میں اِس اِنجِیل کے لِکھے جانے کے تقریباً ستر سال بعد تسلیِم کِیا کہ اِس تِیسری اِنجِیل کا مُصنِف لوُقا ہی ہے. اِبتدائی کلیسیاء کا بھی یہی مُتفِقہ اعلامیہ تھا. جیسا کہ میں نے پہلے عرض کِیا کہ اِس کے عِلاوہ کوئی اور تجویز پیش نہیں کی گئی. قدیم ترین یونانی نُسخہ جو کہ دوسری صدی کا ہے اور اب تک کا قدیم ترین یؤنانی نُسخہ ہے، اُس کا بھی عُنوان یہی ہے "لوُقا کی معرِفت لِکھا گیا اِنجیِلی بیان". اور اِس بات کے قوی اِمکانات ہیں کہ یہ درُست ہو کیونکہ یہ بہت شروع کی بات ہے. ایک کینن موجود ہے. جب ہم کینن کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے مُقدس صحائف کا مجموعہ. نئے عہد نامہ کے مُقدس صحائف کی اِبتدائی تالیِف کو ترتیب میورے ٹورین کینن کہا جاتا ہے. یہ 170ء سے 180ء کے ادوار کی بات ہے اور اُسکے مُطابِق بھی اِسکا نام "لوُقا کی اِنجِیل" ہی ہے. اِسکے عِلاوہ بھی بہت سے قدیم ذرائع ہیں جو اِس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ لوُقا ہی اِس اِنجِیل کا مُصنِف ہے لیکن ہم اُنکی تفصیل میں نہیں جائیں گے۔ رِوایت کے اعتبار سے تو اِس پر کوئی شائبہ نہیں کہ لوُقا ہی اِس اِنجیِلی بیان کا مُصنِف ہے. کل ہم اِسکی تصدیق متن کے پہلو سے کرینگے.
جاری ہے...
On Sat, 8 Aug 2020 1:36 pm pastor asghar john, wrote:
Slide1.JPG
-
Elders trembled at the coming of Samuel. (1Sm 16:4) And Samuel did that which the LORD spoke, and came to Bethleh...
-
Matthew 5:6, Blessed are they which do hunger and thirst after righteousness : for they shall be filled. The craving of bodily hunger ha...
-
THE SERMON ON THE MOUNT In the sermon on the Mount (Mt. 5---7),Jesus introduces the kind of life those who seek the Kin...
