بارہ شاگِرد: متیاہ ( تیسرا حِصہ):
بارہ شاگِرد:
متیاہ ( تیسرا حِصہ):
سو ہم اعمال 1ب 12-15آ میں شاگِردوں کی تابعداری کو دیکھتے ہیں. اور آپکو یاد ہوگا کہ یسوع مسیح نے اُن سے یہ کہا تھا کہ وہ یروشلیم میں ٹھہرے رہیں جب تک کہ روح القدس نازل نہ ہو جائے. اور اُنکے لئے یہ بے حد ضروری تھا کہ وہ اِنتظار کرتے کیونکہ روح القدس تب تک نازل نہیں ہو سکتا تھا جب تک کہ یسوع آسمان پر واپس نہ چلا جاتا. یوُحنا 16ب 7آ میں لِکھا ہے "لیکن مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ میرا جانا تُمہارے لِئے فائِدہ مند ہے کیونکہ اگر مَیں نہ جاؤں تو وہ مددگار تُمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر جاؤں گا تو اُسے تُمہارے پاس بھیج دُوں گا۔" سو اُنہوں نے اِنتظار کیا اور اپنی فرمانبرداری کا اِظہار کیا.
اِسکے بعد اعمال 1ب 15آ میں لِکھا ہے "اور اُن ہی دِنوں..." یعنی اُنہیں دس دِنوں میں سے کِسی وقت "پطرؔس بھائِیوں میں جو تخمِیناً ایک سَو بِیس شخصوں کی جماعت تھی کھڑا ہو کر کہنے لگا۔" پطرس کہنا شروع کرتا ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ میرا ایمان ہے کہ یہاں پطرس روح القدس کی تحریک سے بول رہا ہے. میرا یہ ماننا ہے کہ یوُحنا 21ب میں سونپی گئی ذمے داری کے مُطابِق وہ مسیح کی پیروی کر رہا تھا. یہ کہنا کہ پطرس نے یہاں غلط اقدام اُٹھایا ایک غلطی ہو گی. اور نہ ہی کلامِ خُدا اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے. صِرف ایک ہی بات کی نِشاندہی کی گئی ہے کہ وہ کھڑا ہوا اور بولنے لگا اور جو کُچھ اُس نے کہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ روح القدس کے مُنہ سے نِکلے ہوئے الفاظ تھے. کیونکہ وہ پرانے عہد نامے کے حوالے دیتا ہے اور جس طرح سے وہ پُرانے عہد نامے کا متن پڑھ کر اُن کی تفسیر بیان کرتا ہے وہ تفسیر روح القدس کے الہام کے بغیر مُمکِن ہی نہیں تھی۔
"پطرؔس بھائِیوں میں کھڑا ہو کر کہنے لگا۔" کیونکہ اُسے راہنمائی کرنے کی ذِمےداری سونپی گئی تھی. اس لئے اب وہ اُس ذِمےداری کو نِبھا رہا ہے. اور میں یقین سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ جائز تھا کیونکہ خُدا بھی ایسا ہی چاہتا تھا. اُس نے اِتنا سب کُچھ کرنے کے بعد غلط لوگوں کے ساتھ اپنی کلیسیاء کا آغاز نہیں کرنا تھا. میرا ایمان ہے کہ متیاہ کا اِنتخاب خُداوند کی طرف سے تھا. سو لِکھا ہے "اُس نوِشتہ کا پُورا ہونا ضرُور تھا جو رُوح القُدس نے داؤُد کی زُبانی اُس یہُوداؔہ کے حق میں پہلے سے کہا تھا جو یِسُوع کے پکڑنے والوں کا رہنُما ہُؤا۔" سو آپ سوال کر سکتے ہیں کہ اِسکا کیا مطلب ہے؟ اِسکا مطلب یہ ہے کہ پطرس اُنکو یہ بتانا چاہتا تھا کہ جو کُچھ یہوُداہ نے کیا وہ دراصل داؤد نبی نے پُرانے عہد نامہ میں نبوتی طور پر بیان کر دیا تھا. آپ پوچھینگے کہ "وہ کیوں اُنہیں بتانا چاہتا ہے؟" وہ اس لئے بتانا چاہتا ہے تاکہ وہ یہ نہ سوچ لیں کہ خُدا کا منصوبہ برباد ہو گیا. پطرس کہتا ہے "اے بھائیو اُس نوِشتہ کا پُورا ہونا ضرُور تھا جو رُوحُ القُدس نے داؤُد کی زُبانی اُس یہُوداؔہ کے حق میں پہلے سے کہا تھا." دوستو یہ تو منصوبے کا حِصہ تھا. خُدا کا منصوبہ تباہ نہیں ہوا تھا. خُدا کبھی بھی اُن لوگوں کو کھو نہیں دیتا جِنکو وہ اپنا بنا لیتا ہے.
یسوع یوُحنا 17ب میں کہتا ہے "مَیں نے اُن کی نِگہبانی کی اور ہلاکت کے فرزند کے سِوا اُن میں سے کوئی ہلاک نہ ہُؤا تاکہ کِتابِ مُقدّس کا لِکھا پُورا ہو۔" غور کِیا آپ نے؟ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کوئی یہ سوال اُٹھا دیتا کہ اگر تو نے کسی کو نہیں کھویا تو یہوُداہ اِسکریوتی کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اس وجہ سے اُس نے "سوائے ہلاکت کے فرزند" جیسے جُملے کا استعمال کیا. یہ کس حوالے کی بابت بات کی جا رہی ہے؟ وہ اعمال 1ب 16آ میں اس پیشینگوئی کا حوالہ دیتا ہے اور 20آ میں وہ اس حوالہ کو بیان کرتا ہے. وہ اُنکو یہ باور کروا دینا چاہتا ہے کہ یہ پطرس نے اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ یہ سب باتیں پہلے سے ہی کلامِ مُقدس میں لکھی ہیں. وہ انہیں بتانا چاہتا ہے کہ وہ روح القدس کی ہدایت سے بول رہا ہے۔ سو وہ کہتا ہے کہ روح القدس نے داؤد کی زبانی فرمایا تھا کہ یہوداہ اس انجام کو پہنچے گا۔
17آ میں لِکھا ہے "کیونکہ وہ ہم میں شُمار کِیا گیا اور اُس نے اِس خِدمت کا حِصّہ پایا۔" یہوُداہ اِسکریوتی کو اِلٰہی تقرری کے ذریعہ سے ایک اہم منسب سونپا گیا تھا، اُسے شاگرد ہونے کے لئے بُلایا گیا تھا. آپ پوچھینگے کہ کیا وہ نجات یافتہ تھا؟ نہیں، ایسا ہرگِز نہیں تھا. ایسا یوُحنا 6ب سے صاف ظاہر ہے. 64آ میں یسوع اپنے شاگِردوں سے گفتگو کرتے ہوئے یوں کہتا ہے "مگر تُم میں سے بعض اَیسے ہیں جو اِیمان نہیں لائے" اب یہ بات صاف صاف لکھی ہے پھر وہ کہتا ہے "کیونکہ یِسُوؔع شرُوع سے جانتا تھا کہ جو اِیمان نہیں لاتے وہ کَون ہیں اور کَون مُجھے پکڑوائے گا۔" اور اسے کس نے پکڑوایا تھا؟ یہوُداہ اِسکریوتی نے. سو اُس نے یہ بات یہوُداہ سے مُتعلِق کہی تھی کہ "اِیمان نہیں لائے" یہوُداہ اِسکریوتی کبھی ایمان نہیں لایا تھا. 70آ میں لِکھا ہے "یِسُوؔع نے اُنہیں جواب دِیا کیا مَیں نے تُم بارہ کو نہیں چُن لِیا؟ اور تُم میں سے ایک شخص شَیطان ہے۔" وہ جانتا تھا کہ یہوُداہ اِسکریوتی کبھی بھی تبدیل نہیں ہوا تھا اور نہ ہی کبھی ایمان لایا تھا. وہ شروع سے آخِر تک پیسوں ہی کے لالچ میں رہا۔
یہوُداہ اِسکریوتی نے 20آ میں لکھی بات کو پورا کیا. اُسکا الگ ہو جانا کوئی اِتفاق کی بات نہیں کیونکہ زبور 69ب 25آ میں داؤد نبی نبوتی طور پر یہ فرماتا ہے کہ "اُن کا مسکن اُجڑ جائے۔ اُن کے خَیموں میں کوئی نہ بسے۔" یعنی یہوُداہ اِسکریوتی کی جگہ اُجڑ جائے گی، اُسے اسکے عہدے سے ہٹا دیا جائیگا اور اسے مِٹا دیا جائے. اور پھِر زبور 109ب 8آ لِکھا ہے کہ "اُسکا منصب" یعنی اُسکی ذمہ داری "کوئی دوسرا لے لے." سو یہاں پر پطرس نے دو زبوروں کا حوالہ دیا ہے. اِسکا سادہ سا مطلب ہے کہ اُسکا عہدہ کوئی اور لے لے. یہوُداہ اِسکریوتی کا عُہدہ لے لیا گیا اور اُسکی جگہ کسی اور کو دے دیا گیا. اب یہوداہ کی جگہ کسی نے نہیں لی کیونکہ اس کی جگہ کو ختم کر دیا گیا اور بارھویں شاگرد کو لایا گیا۔ یہوُداہ اِسکریوتی کا جانا اور متیاہ کا آنا درحقیقت نبوت کی تکمیل ہے. کیا آپ جان پائے ہیں کہ پطرس اُن سے کیا کہنا چاہتا ہے؟ وہ کہنا چاہتا ہے کہ خُدا پر بھروسہ رکھیں. خُدا نے منصوبہ تباہ و برباد نہیں کیا اور نہ ہی کُچھ غلط ہوا ہے. خُدا نے آغاز ہی سے اِن باتوں کو اس طور سے ترتیب دیا تھا. یہ سب پُرانے عہد نامہ میں قلمبند ہے.
متیاہ پر یہ پیغام ابھی جاری ہے
-
Elders trembled at the coming of Samuel. (1Sm 16:4) And Samuel did that which the LORD spoke, and came to Bethleh...
-
Matthew 5:6, Blessed are they which do hunger and thirst after righteousness : for they shall be filled. The craving of bodily hunger ha...
-
THE SERMON ON THE MOUNT In the sermon on the Mount (Mt. 5---7),Jesus introduces the kind of life those who seek the Kin...
