1-کرنتھیوں 8 ۔ 1 اب بتوں کی قربانیوں کی بابت یہ ہے ۔ ہم
جانتے ہیں کہ سب علم رکھتے ہیں علم غرور پیدا کرتا ہے لیکن محبت ترقی کا باعث ہے ۔ 2 اگر کوئی گمان کرے کہ میں سب کچھ جانتا ہوں تو جیسا جاننا چاہیے ویسا اب تک نہیں جانتا ۔3 لیکن جو کوئی خدا سے محبت رکھتا ہے اس کو خدا پہچانتا ہے ۔
ہم میں سے بہت سارے لوگ اپنے علم پر غرور کرتے ہیں غرور کرنے والا خدا کو پسند نہیں آتا غرور کرنے والے سے خدا کا کوئی بھی رشتہ نہیں ہے جتنا مرضی بڑا عالم کیوں نہ ہو۔ مقدس پولس رسول فرماتے ہیں ۔ علم ہو تو مٹ جائے گا کیونکہ ہمارا علم ناقص ہے ۔ ہمیں اپنے علم پر غرور نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ہم اپنے علم سے خدا سے محبت نہیں کرسکتے- خدا ہم سے علم نہیں چاہتا بلکہ خدا یہ چاہتا ہے کہ ہم اس سے محبت کرے - ہمیں صرف اور صرف خدا سے محبت کرنی ہے اور وہ بھی وفاداری سے ہمارا علم خدا کے سامنے کچھ نہیں ہیں ہے مگر ہمارا وفادار ہونا سب کچھ ہے - خداوند کے کلام مقدس میں لکھا ہے خدا روح ہے تو ضرور ہے کہ خدا ایسے پرستار چاہتا ہے جو روح اور سچائی سے اس کی پرستش کرے -1 پرستش کا مطلب ہے کسی کو حد سے زیادہ چاہنا 2 کسی کو حد سے زیادہ محبت کرنا 3 دوکسیسرے کو روح سے چاہنا اور روح سے محبت کرنا ۔ مگر انسانی فطرت ہے کہ وہ جسم سے محبت کرتا ہے نہ ک روح سے ہر انسان دیکھیں چیز سے محبت کرتا ہے انسان اس بات کے عادی ہو چکے ہیں کہ وہ خدا کو بھی دیکھنا چاہتے ہے خدا تو شاید ان کو نظر نہیں آتا کیونکہ ان کے پاس دیکھنے کی آنکھیں نہیں خدا کو روح سے دیکھا جاتا ہے نہ کہ جسمانی آنکھوں سے جب انسان کو خدا نظر نہیں آتا تو انسان خود خدا بنانا شروع کر دیتا ہے پھر وہ اپنی مرضی کے خدا بناتا ہے ۔ سونے کے چاندی کے لکڑی کے پتھر کے چوک کے بعض تو روپے پیسے کو اپنا خدا بنا لیتے ہیں
ہے یعنی مسیح یسوع - نہ خدا باپ کا کوئی بت ہے اور نہ خداوند یسوع کا











