2:1--11۔۔پھر دوسرا حوالہ یہ دیتے ہیں پلوس نے تِیمُتھِیُسی کو یہ ہدایت دی کےمَے کو دوائی کے طور پر استعمال کر ۔ ۱-تِیمُتھِیُس23/5۔۔ ان دونوں حوالہ جات یونانی لفظ ( ونیوس) [vinos]
استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے انگوروں کا رس ۔جبکہ شراب کے لئے جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کا نام ۔ شکار ۔(shekar)
ہے یہ دونوں لفظ (لوقا1۔15)میں استعمال ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھِر تِیسرے دِن قانای گلِیل میں ایک شادِی ہُوئی اور یِسُوع کی ماں وہاں تھی۔. ,
2:10 ہر شَخص پہلے اچھّی مَے پیش کرتا ہے اور ناقِص اُس وقت جب پی کر چھک گئے مگر تُو نے اچھّی مَے اَب تک رکھ چھوڑی ہے۔. ۱-تِیمُتھِیُس
5:23 آیندہ کو صِرف پانی ہی نہ پِیا کر بلکہ اپنے معدہ اور اکثر کمزور رہنے کی وجہ سے ذرا سی مَے بھی کام میں لایا کر۔.
لُوقا
1:15 کِیُونکہ وہ خُداوند کے حُضُور میں بُزُرگ ہوگا اور ہرگِز نہ مَے نہ کوئی اور شراب پِیئگا اور اپنی ماں کے پیٹ ہی سے رُوحُ القُدس سے بھر جائے گا. امثال
20:1 مے مسخرہ اور شراب ہنگامہ کرنے والی ہے اور جو کوئی اِن سے فریب کھاتا ہے دانا نہیں ۔. ۱-کُرِنتھِیوں 6:10 نہ چَور۔ نہ لالچی نہ شرابی۔ نہ گالِیاں بکنے والے نہ ظالِم۔. گلتِیوں
5:21 بُغض۔ نشہ بازی۔ ناچ رنگ۔ اور اَور اِن کی مانِند۔ اِن کی بابت تُمہیں پہلے سے کہہ دیتا ہُوں جَیسا کہ پیشتر جتا چُکا ہُوں کہ اَیسے کام کرنے والے خُدا کی بادشاہی کے وارِث نہ ہوں گے۔. :پَیدایش
9:21 اور اُس نے اُسکی مَے پی اور اُسے نشہ آیا اور وہ اپنے ڈیرے میں برہنہ ہوگیا. پَیدایش 4:9 تب خُداوند نے قاؔئن سے کہا کہ تیرا بھائی ہابل کہا ہے؟ اُس نے کہا مجھے معلوم نہیں ۔ کیا میں اپنے بھائی کا مُحافظ ہُوں؟۔ اِستِثنا 21:18 اگر کسی آدمی کا ضدی اور گردن کش بیٹا ہو جو اپنے باپ یا ماں کی بات نہ مانتا ہو اور اُنکے تنبیہ کرنے پر بھی اُنکی نہ سُنتا ہو ۔ 21:21 تب اُسکے شہر کے سب لوگ اُسے سنگسار کریں کہ وہ مر جائے ۔ یوں تُو ایسی برائی کر اپنے درمیان سے دور کرنا ۔ تب سب اسرائیلی سُن کر ڈر جائیں گے امثال 23:20 تو شیرابیوں میں شامل نہ ہو اور نہ حریص کبابیوں میں۔۔۔(اور وہ یوحنا بپتسمہ دینے والا )خداوند کی نگاہ میں بزرگ ہوگا اور وہ نہ تو وہ (ونیوس) پیئے گا نہ شراب (شکار )یہ آیات ہمیں شراب نوشی کے متعلق خدا کے نظریہ سے آگاہ کرتی ہے (امثال 20_1 ۔امثال23۔29۔35۔یسعیا 28۔7 ۔ہوسیع 4۔11۔1۔پہلا کرنتھیوں 6۔10۔گلیتیوں 5۔21۔ بائبل مقدس میں شراب کا سب سے پہلا ذکر ۔پیدائش۔9۔21۔میں کیا گیا اور یہ حوالہ نوح نبی کی شراب نوشی اور اس کے ہولناک نتائج بتاتا ہے ۔۔جو اس کے بیٹے حام کے ساتھ ہوا ۔،۔۔۔۔۔وجوہات کے مسیحوں کو شراب نوشی کیوں نہیں کرنی چاہیے ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔1۔۔ایمانداروں کا بدن پاک روح کا مسکن ہے اور اسے اسی طرح سے آلودہ نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ .2 ۔ایماندار یسوع مسیح کا گواہ ہےاور اگر وہ تھوڑی سی بھی شراب نوشی کرتا ہے تو ایک کمزور بھائی اس آزمائش کا شکار ہوسکتا ہے کہ وہ زیادہ شراب نوشی۔۔۔۔۔۔۔۔۔3۔ایماندار اپنے بھائیوں کے لئے ذمہ دار (ہیں پیدائش 4۔9)اور اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بھائی کی مدد کرے کہ وہ پاک اور راستبازی کی زندگی بسر کرے ۔۔ایسی بہت سی وجوہات ہے ( کہ ہر کسی کو چاہیے کہ وہ مسیح ہے یا نہیں مکمل طور پر شراب نوشی سے گریز کرنا چاہیے
۔1کیوں کہ یہ پیسے کا (زیاں ہے ۔۔استثنا 21 18 21 ۔۔ امثال 23 20) 2شاہراہوں پر دوسروں کی حفاظت اور سلامتی کے لئے ۔3شراب نوشی کے باعث گھر برباد ہو جاتے ہیں ۔۔شراب نوش جنگ وبا اور کال سے زیادہ خطرناک ہے ۔کیوں کہ ایک گھونٹ کے بعد دوسرا ایک گلاس کے بعد دوسرا کلام مقدس کے مطابق اس سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہر وقت ہر قسم کے حالات میں اس سے گریز کیا جائے ۔ آپ بتائیں کیا اور بھی وجوہات ہے جس کے باعث ایک مسیح کو شراب نوشی نہیں کرنی چاہیے . .
مصنف اصغر جان




